Monday, July 9, 2012

گلزارِ نسیم

گلزارِ نسیم


             ’’مثنوی گلزارِ نسیم‘‘  (۳۹۔ ۱۸۳۸ء) اُردو کی ممتاز کلاسیکی مثنویوں  میں  اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ ’آبِ حیات‘  کی تلاش کی طرح ’گل بکاؤلی‘  کی تلاش بھی ایک دلچسپ فسانہ بنی رہی ہے۔ ممکن ہے  آبِ حیات کی طرح اس کی جڑیں  بھی لوک فسانوں  حکایتوں  میں  جذب ہوں۔ پہلا قصّہ فارسی نثر میں  ملتا ہے، عزت اللہ بنگالی نے  یہ کہانی لکھی تھی، منشی نہال چند لاہوری نے  گل کرسٹ کی فرمائش پر ۱۷۲۲ء میں  اس قصّے  کو اُردو نثر کا جامہ پہنایا۔
            پنڈت دَیا شنکر نسیم نے  (۳۹۔ ۱۸۳۸ء) میں  اسے  نظم کے  پیکر میں  ڈھالا۔ کہتے  ہیں:
ہر چند سنا گیا ہے  اس کو
اُردو کی زبان میں  سخن گو
وہ نثر ہے، دادِ نظم دوں  میں
اُس مے  کو دو آتشہ کر دوں  میں
            عزّت اللہ بنگالی کی کہانی تاج الملوک  اور  بکاؤلی کی شادی کے  بعد ختم ہو جاتی ہے، منشی نہال چند لاہوری نے  کہانی کو زیادہ دلچسپ بنانے  کے  لیے  دلبر طوائف  اور  منگل دیپ کے  راجا چتر سین کے  کرداروں  کے  ساتھ حمالہ دیونی  اور  اس کی بیٹی محمودہ سہیلی، سمن پری، جمیل پری، روح افزا پری، رانی چتراوت وغیرہ کے  کردار شامل کیے  ہیں۔ دیا شنکر نسیم نے  منشی نہال چند کے  افسانے  سے  خوب استفادہ کیا ہے۔ نسیم کی سادہ  اور  دلکش شاعری نے  ’گل بکاؤلی‘  کے  قصّے  کو نئی روح عطا کر دی۔ سادگی کا حسن لیے  ایسی شاعری کے  نمونے  آسانی سے  نہیں  ملتے۔ اس مثنوی کی سب سے  بڑی خوبی یہ ہے  کہ ان میں  کہانی کی رومانیت  اور  اس کی طلسمی فضا کا حسن اسلوب کی سادگی کے  حسن سے اور نکھر گیا ہے۔ اختصار کے  آرٹ کا جلوہ شدّت سے  متاثر کرتا ہے۔ نسیم نے  واقعات کی پیشکش میں  بھی اختصار سے  کام لیا ہے اور کم از کم لفظوں  میں  ایک اچھے  فنکار کی طرح بات کہنے  میں  بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ نسیم چست بندشوں  کے  ایک بڑے  اچھے  فنکار ہیں۔ حقیقت، واقعہ  اور  لمحوں  کے  تجربوں  کی پیشکش میں  چست بندشوں  کی وجہ سے  پرکشش پیکروں  کی تخلیق ہوئی ہے  کہ جن سے  جمالیاتی لذّت حاصل ہونے  لگتی ہے۔ مثلاً:
وہ ناچنے  کیا کھڑی ہوئی تھی
خود راگنی آ کھڑی ہوئی تھی
ایک دلکش، پر آہنگ پیکر سامنے  آ جاتا ہے۔ ایک شفاف تخیل کی تخلیق، کہتے  ہیں:
بند اس کی وہ چشم نرگسی تھی
چھاتی کچھ کھلی ہوئی تھی
رومانی تخیل نے  ایک پُر کشش منظر پیش کر دیا ہے، الفاظ سے  جو جمالیاتی تاثر پیدا کیا گیا ہے  وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہندوستانی جمالیات کے  معروف عالم کنٹک (Kuntaka) نے  ’وا کروکتی‘  (Vakrokti) کی جمالیاتی اصطلاح استعمال کرتے  ہوئے  جب یہ کہا تھا کہ جو شعرا ایسے  شبد (الفاظ) استعمال کرتے  ہیں  جو دل میں  اُتر جاتے  ہیں  وہ جانتے  ہیں  کہ دل میں  اُتر جانے  والے  شبدوں  سے  کیسی جمالیاتی کیفیتیں  پیدا ہو سکتی ہیں  تو دراصل انھوں  نے  ایسے  ہی تجربوں اور ایسے  ہی ’ڈکشن‘  کی جانب اشارہ کیا تھا۔ نسیم کے  ’ڈکشن‘  کی سب سے  بڑی خوبی سادگی کا حسن ہے، بڑی بات یہ ہے  کہ جمالیاتی انبساط عطا کر نے  میں  شاعر کو لفظی بازیگری کی ضرورت نہیں  پڑی، سادگی کے  حسن کا جو ’رس‘  ہے  وہی جمالیاتی انبساط عطا کر دیتا ہے۔ ’مثنوی گلزارِ نسیم‘  میں  سادگی کے  حسن کے  عطا کیے  ہوئے  رس کو تشبیہات و استعارات، رعایت لفظی  اور  فصاحت و بلاغت میں  پایا جا سکتا ہے اور اس کی لذّت حاصل کی جا سکتی ہے۔ عام گفتگو کا فطری انداز متاثر کرتا ہے۔ شفاف تخیل  اور  تخیلی تخلیق کی عمدہ مثالیں  ملتی ہیں، فطری عمل کی مثالیں  بھی توجہ طلب بن جاتی ہیں:
منہ پھیر کے  ایک مسکرائی
آنکھ ایک نے  ایک کو دکھائی
چتون کو ملا کے  رہ گئی ایک
ہونٹوں  کو ہلا کر رہ گئی ایک

گھبرائی کہ میں ! کدھر گیا گل!
جھنجھلائی کہ کون دے  گیا جُل!
ہے  ہے ! مرا پھول لے  گیا کون؟
ہے  ہے ! مجھے  خار دے  گیا کون؟
ہاتھ اس پہ  اگر  پڑا نہیں  ہے
بو ہو کے  تو پھول اُڑا نہیں  ہے
نرگس! تو دکھا، کدھر گیا گل؟
سوسن! تو بتا کدھر گیا گل؟
سنبل! مرا تازیانہ لانا
شمشاد! انھیں  سولی پر چڑھانا

مہتابی یہ چاندنی جب آئی
سایے  نے  پری پہ کی چڑھائی
اس فتنے  کی خواب گہہ تک آیا
مانند سنہا، وہ منہ تک آیا
تجویز رہا تھا گھات گوں  کی
ناگاہ وہ مستِ خواب چونکی
آغوش کی موج سے  وہ معطّر
مچھلی سی نکل گئی تڑپ کر
پیچھا کیے  صحن تک وہ آیا
مہتاب کے  پیچھے  جیسے  سایا
            فطری زبان میں  محاوروں  کے  استعمال سے  بڑی دلآویزی پیدا ہو گئی ہے۔ فطری زبان کی تاثیر بڑھ گئی ہے۔ محاوروں  کے  استعمال میں  جو موزونیت  اور  نفاست ہے  اس کی مثال مشکل سے  ملے  گی۔ تہذیب کی روشنی کی کرنیں  زبان پر کچھ اس طرح پڑی ہیں  کہ محاورے  اپنی چمک دمک لیے  اس میں  جذب ہو گئے  ہیں، سادگی کے  حسن و جمال کا حصّہ بن گئے  ہیں، نظم میں  جو محاورے  استعمال ہوئے  ہیں اور جو اسلوب کے  حسن میں  اضافہ کر رہے  ہیں۔ ان میں  چند یہ ہیں:
نقشہ جمانا آنکھ نہ ٹھہرنا         سرمہ طور لانا         سرمہ کھینچنا
پلکوں  سے  مارنا       شگوفہ ہاتھ آنا        شاہانہ چلنا خاک اُڑنا
قسمت پر چلنا         ہاتھ آنا   ہتھکنڈہ نہ پانا          پنجے  میں  پھنسنا
چھکّے  چھوٹنا            جگ ٹوٹنا  ڈنکے  کی چوٹ       مار آستین ہونا
چٹکی بجانا  مانندِ چراغ جلانا      مٹھی میں  ہوا کو تھامنا            دل پر بات رکھنا
عقل گم ہونا          خاک پھانکنا          اندیشے  سے  دہل جانا پل مارنا
ہاتھ مارنا  قول ہار نا  گلے  لگانا   شرم سے  نہ کھلنا
منہ اندھیرے       بغل گیر ہونا          آسمان سے            چہرہ   چھپانا
زبان کھولنا           تارے  توڑنا          وغیرہ
            رنگا رنگ تجربات  اور  لطف کی سطحوں  کو پیش کر نے  کے  لیے  نسیم نے  مروجہ محاوروں  کو زبان کی خوشبو عطا کی ہے۔ محاوروں  کا استعمال شعوری نہیں  غیر شعوری ہے۔ زبان کی پہچان ان محاوروں  ہی سے  ہوتی ہے۔ ڈرامائی کیفیتوں اور ذہنی  اور  جذباتی عمل  اور  ردِّ عمل کو نمایاں  کر نے  میں  ان محاوروں  سے  بڑی مدد ملی ہے۔ گلزارِ نسیم کی رومانیت  اور  ’"سی‘  (Fantasy) میں  ان محاوروں  نے  کئی مقامات پر پیکر کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اکثر استعارات و تشبیہات میں  یہ محاورے  جذب ہو گئے  ہیں:
غم کھا کے، لہو کے  گھونٹ پیتا
دم کے  دھاگوں  سے  ہونٹھ سیتا
۔۔۔۔۔۔۔۔
آغوش کی موج سے  وہ معطر
مچھلی سی نکل گئی تڑپ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔
دہقاں  کی زوجہ کے  کھلے  بھاگ
کھانے  لگی نوچ نوچ کے  ساگ
کھاتے  ہی حمل کا ڈھنگ پایا
سرسوں  سا ہتھیلی پر جمایا
وہ بانج تھی، جب حمل قبولی
سرسوں، آنکھوں  میں  سب کی پھولی
             ’’مثنوی گلزارِ نسیم‘‘  ایک پرانی کہانی یا قدیم داستان کی نئی تخلیق ہے، فنکار کی تخلیقی فکر نے  اسے  طرح طرح سے  سنوارا ہے۔ ایک خوبصورت منظوم داستان کی صورت میں  یہ ایک نئی تخلیق بن گئی ہے، شاعر کے  تخلیقی عمل نے  اسے  انفرادیت بخش دی ہے۔ ایک پرانی کہانی کو مرکز نگاہ بنانے  کے  لیے  فنکار کی تخلیقی کوشش توجہ طلب ہے۔ اس تخلیقی کوشش میں  شاعر کا وہ ’وژن‘  (Vision) اہمیت رکھتا ہے  جو ایک جانب کہانی کی رومانیت کو جلوہ بنا دیتا ہے اور دوسری جانب اپنے  Craftsmanship سے  اسلوب کو فکشن کا جوہر بنا دیتا ہے۔
            ’"سی‘  (Fantasy) میں  ’احساسات‘  کی بڑی اہمیت ہوتی ہے  اس لیے  کہ ’"سی‘  کی جڑیں  جذبات کی گہرائیوں  میں  پیوست رہتی ہیں۔ احساسات کی وجہ سے  تخیل کی تو انائی میں  اضافہ ہوتا ہے۔ ’"سی‘  کے  بڑے  فنکار تو تحیّرات کی ایک دوسری دنیا خلق کر دیتے  ہیں  جو فن کی ایک بہت ہی بلند سطح کا احساس بخشنے  لگتی ہے۔ ہندوستان کے  قدیم علمائے  جمالیات کو ’احساسات‘  کی اہمیت کا بخوبی احساس تھا، بھرت (Bharata) نے  جو اکتالیس ’بھاؤں ‘  (Bhavas) کا ذکر کیا ہے  وہ احساسات (Feelings) کا ہی ذکر ہے۔ اکتالیس بھاؤں  میں  آٹھ ستھی بھاؤ (Sathayi Bhavas) ہیں اور باقی ’سنچاری‘  (Sanchari) بھرت نے  جن بھاؤں  کا ذکر کیا ہے  ان میں  کئی بنیادی احساسات’مثنوی گلزارِ نسیم‘  میں  مرکزی حیثیت اختیار کیے  ہوئے  ہیں۔ اس منظوم افسانے  کی روح ایک کونپل کی طرح ’رتی بھو‘  (Rati Bhava) سے  پھوٹتی ہے۔ بھرت کے  مطابق ’رتی بھو‘  پیار،  محبت، جنسی آرزو  اور  جنسی جذبے  کا بنیادی احساس ہے۔ گلزارِ نسیم میں  ’رتی بھَو‘  کے  کئی مناظر جاذبِ نظر ہیں۔ مثلاً:
سنسان وہ دم بخود تھی رہتی
کچھ کہتی، تو صنما سے  تھی کہتی
کرتی تھی جو بھوک پیاس بس میں
آنسو پیتی تھی، کھا کے  قسمیں
جابے  سے  جو زندگی کے  تھی تنگ
کپڑوں  کے  عوض بدلتی تھی رنگ
یک چند جو گزری بے  خور و خواب
زائل ہوئی اس کی طاقت و تاب
صورت میں، خیال رہ گئی وہ
ہیئت میں، مثال رہ گئی وہ
آنے  لگے  بیٹھے  بیٹھے  چکّر
فانوسِ خیال بن گیا گھر
پریاں  وہ جو اس کی پاسباں  تھیں
دانا و عقیل و خوش بیاں  تھیں
سمجھانے  لگیں  کہ مرتی ہے  کیوں
ترکِ خور و خواب کرتی ہے  کیوں
ثابت کچھ اثر ستارے  کا ہے
کس چاند کو کیا گہن لگا ہے!
رحم اپنی جوانی پر ذرا کر
منہ دیکھ تو آئینہ منگا کر
صورت تری زار ہو گئی ہے
گل ہوکے، تو خار ہو گئی ہے
             ’’مثنوی گلزارِ نسیم‘‘  ’رتی بھَو‘  (Rati Bhava) کے  علاوہ جو دوسرے  ’احساسات‘  اہمیت رکھتے  ہیں  ان میں  ’بھئے ‘  (خوف) ’سوگ‘  (غم) ہرس (مسرت) ’چنتا‘  (تردد) ’وسمایہ‘  (حیرت) بھوؤں  کی پہچان مشکل نہیں  ہے۔ ان احساسات کو بڑے  فنکارانہ انداز میں  پیش کیا گیا ہے۔ ’بھئے ‘   اور  ’وسمایہ‘  (خوف  اور  حیرت) بھوؤں  کی آمیزش سے  چند پُر کشش مناظر اُجاگر ہوئے  ہیں۔ مثلاً:
وہ دامنِ دشتِ شوق کا خار
یعنی، تاج الملوکِ دل زار
اِک جنگلے  میں  جا پڑا جہاں  گرد
صحرائے  عدم بھی تھا جہاں  گزر
سایے  کو، پتا نہ تھا شجر کا
عنقا تھا نام جانور کا
مرغانِ ہوا تھا ہوش راہی
نقشِ کفِ پاتھے  ریگ ماہی
وہ دشت کہ جس میں  پُر تگ دو
یا ریگ رواں  تھی، بادہ رہ رو
ڈنڈا تھا ارم کے  بادشاہ کا
اِک دیو تھا پاسباں  بلا کا
دانت اس کے  گورکن قضا کے
دو ننھے : رہ عدم کے  ناکے
سرپر پایا بلا کو اس نے
تسلیم کیا فضا کو اس نے
بھوکا کئی دن کا تھا وہ ناپاک
فاقوں  سے  رہا تھا پھانک کر خاک
بے  ریشہ یہ طفلِ نوجواں  تھا
حلوا بے  دود بے  گماں  تھا
بولا کہ چکھوں  گا میں  یہ انساں
اللہ اللہ! شکر احساں
شہہ زادہ، کہ منہ میں  تھا اجل کے
اندیشے  سے  رہ گیا دہل کے
            ایک جگہ ’وسمایہ‘  (حیرت) ’چِنتا‘  (تکلیف دِہ تردد) ’سوگ‘  (غم)  اور  ’بھئے ‘  (خوف  اور  غصّہ) کے  احساسات کی آمیزش ایسی ہے  کہ ایک انتہائی دلکش منظر اُبھر کر سامنے  آ گیا ہے:
ہے  ہے  مرا پھول لے  گیا کون
ہے  ہے  مجھے  خار دے  گیا کون
ہاتھ اس پر  اگر  پڑا نہیں  ہے
بو ہو کے  تو پھول اڑا نہیں  ہے
نرگس! تو دکھا، کدھر گیا گل
سوسن! تو بتا کدھر گیا گل
۔۔۔۔۔۔۔۔
شبنم کے  سوما، چرانے  والا
اوپر کا تھا کون آنے  والا!
جس کف میں  وہ گل ہو داغ ہو جائے
جس گھر میں  ہوا گل چراغ ہو جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔
بلبل! تو چہک  اگر  خبر ہے
گل! تو ہی مہک، بتا کدھر ہے
            ہندوستانی جمالیات کے  علماء نے  ’النکاروں ‘  پر غور کرتے  ہوئے  ’وشیش النکار‘  (Vishesa Alankar) کا خاص طور پر ذکر کیا ہے، کوئی احساس یا جذبہ مناسب لفظوں  میں  اس طرح مجسم ہو جائے  کہ لفظوں  کو ان سے  علیحدہ نہ کیا جا سکے، الفاظ احساس  اور  جذبے  کی صورت اختیار کر لیں  تو ایسے  ’النکار‘  کو ’وشیش النکار‘  (Vishesa Alankar) کہتے  ہیں، احساس جذبہ غم کا ہو یا مسرت کا، حیرت کا ہو یا غصّے  کا، مناسب الفاظ پیش کیے  ہوئے  احساس یا جذبے  کی صورت اختیار کر لیتے  ہیں۔ ’مثنوی گلزارِ نسیم‘  کی ایک بڑی خوبی ’وشیش النکار‘  میں  پوشیدہ ہے۔ مثلاً:
انگلی لب جو پہ رکھ کے  شمشاد
تھا دم بہ خود اس کی سن کے  فریاد
جو نخل تھا، سوچ میں  کھڑا تھا
جو برگ تھا، ہاتھ مل رہا تھا
            دَیا شنکر نسیم نے  ’’منظر نگاری‘‘  سے  گریز کیا ہے  لیکن واقعات  اور  حادثات کو یادگار مناظر کی صورت دیتے  ہوئے  انھوں  نے  اپنی فنکاری کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ کرداروں  کے  احساسات  اور  جذبات کو اپنے  تخیل کے  مختلف رنگوں  سے  آشنا کیا ہے۔ ایک منظر دیکھیے:
بلِّی  کا سر، چراغ داں  تھا
چوہا، پاسے  کا پاسباں  تھا
الٹائے  اُڑی یہ قسمت آسا
بلِّی جو دیا تو موش، پاسا
جیتے  ہوئے  بندے  تھے  ہزاروں
قسمت نے  پھنسائے  یہ بھی چاروں
صیّادنی، لائی پھانس کر صید
کرسی پہ بٹھائے  نقشِ امید
گھاتیں  ہوئیں  دل ربائیوں  کی
باتیں  ہوئیں  آشنائیوں  کی
رنگ ان کا جما، تولا کے  چوسر
کھیلی وہ کھلاڑ بازی بد کر
وہ چھوٹ یہ تھی، یہ میل سمجھے
بازی چوسر کی کھیل سمجھے
مغرور تھے  مال و زر پہ کھیلے
ساماں  ہارے، تو سر پہ کھیلے
بدبختی سے  آخری جوا تھا
بندہ ہونا، بد ہوا تھا
دو ہاتھ، میں  چاروں  اس نے  لوٹے
پنجے  میں  پھنسے  تو چھکّے  چھوٹے
 اور  یہ مناظر بھی توجّہ چاہتے  ہیں:
اِک ٹیکرے  پر گیا، بلایا
وہ مثلِ صدائے  کوہ آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کہتی وہ دیونی، کہا جاؤ
دیوؤں  سے  کہا کہ تخت لے  آؤ
دو بال دیے  کہ لو مری لاگ
جب وقت پڑے  دکھائیو آگ
دیو، ان کو سریر پر بٹھا کے
پرواز کناں، ہوا یہ جا کے
۔۔۔۔۔۔۔۔
خیمے  سے  وہ بے  قرار نکلی
اس چھالے  سے  مثلِ خار نکلی
دیکھا تو اندھیری رات سنسان
اِک عالم ہو ہے اور بیابان
اِک دیو وہاں  پہ گشت میں  تھا
جویائے  شکار دشت میں  تھا
            یہ منظر کرداروں  کے  احساس  اور  جذبے  کو لیے  آہستہ آہستہ پھیلتا ہی گیا ہے۔ اس منظر میں  ’رتی بھّو‘ ،’اُتساہ بھَو‘ ، ’وسمایہ بھَو‘ ، ’سوگ بھَو‘ ، ’ہرس بھَو‘   اور  ’اوت سکیا بھَو‘  (Autsukya Bhava) (اوت سکیا بھَو‘  مقصد یا منزل کو پا لینے  کی آرزو کا احساس) سب موجود ہیں، احساسات  اور  جذبات کے  کئی رنگ ہیں۔
            ’مثنوی گلزارِ نسیم‘  ایسی تمام خصوصیات کے  ساتھ اُردو زبان کی ایک منفرد کلاسیکی مثنوی بن جاتی ہے۔
**



1 comment: